ضلع بھکر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، گندم اور چنے کی تیار فصلیں زمین بوس، کسانوں کا کروڑوں کا نقصان
ضلع بھکر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، گندم اور چنے کی تیار فصلیں زمین بوس، کسانوں کا کروڑوں کا نقصان
بھکر (نمائندہ خصوصی) ضلع بھکر اور اس کے گردونواح میں حالیہ غیر متوقع اور طوفانی بارشوں نے کسانوں کی سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ کٹائی کے لیے بالکل تیار گندم اور چنے کی فصلیں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث زمین بوس ہو گئی ہیں، جس سے مقامی کسانوں اور زراعت سے وابستہ افراد کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔
فصلوں کی تباہی اور کسانوں کی بے بسی
تفصیلات کے مطابق، اپریل کا مہینہ کسانوں کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے کیونکہ اس وقت گندم اور چنے کی فصل پک کر تیار ہو چکی ہوتی ہے۔ تاہم، اچانک ہونے والی تیز بارشوں نے کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ گندم کے دانے جھڑ گئے ہیں اور چنے کی فصل کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مہنگے داموں کھاد، بیج اور ڈیزل خرید کر فصلیں کاشت کی تھیں، اور اب فصل پکنے پر اس قدرتی آفت نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
متعلقہ افراد اور مقامی معیشت پر اثرات
فصلوں کی اس تباہی کے اثرات صرف کسانوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس سے جڑے دیگر طبقات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں:
مزدور طبقہ: کٹائی اور گہائی (تھریشنگ) کے لیے منتظر ہزاروں دیہاڑی دار مزدوروں کا روزگار چھن گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز: فصل کو منڈیوں تک پہنچانے والے ٹریکٹر ٹرالی اور ٹرک مالکان کے کام میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مقامی دکاندار: کسانوں کی آمدنی کم ہونے سے مقامی بازاروں اور منڈیوں کی رونقیں بھی ماند پڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ دیہی علاقوں کی معیشت کا سارا دارومدار فصل کی کٹائی پر ہوتا ہے۔
کسانوں کے حکومت سے مطالبات
اس سنگین صورتحال پر کسان اتحاد اور مقامی کاشتکاروں نے حکومتِ پنجاب سے ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ کسانوں کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں:
نقصان کا تخمینہ: محکمہ مال (ریونیو ڈیپارٹمنٹ) اور محکمہ زراعت کی ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور نقصانات کا درست تخمینہ لگائیں۔
آفت زدہ علاقہ قرار دینا: ضلع بھکر کے شدید متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر 'آفت زدہ' (Calamity Hit) قرار دیا جائے۔
مالی امداد اور قرضوں کی معافی: متاثرہ کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے، زرعی ٹیکس (آبیانہ وغیرہ) معاف کیا جائے، اور بینکوں کے زرعی قرضوں کی وصولی مؤخر کی جائے۔
خلاصہ
ضلع بھکر جو کہ چنے اور گندم کی پیداوار کے حوالے سے ایک اہم علاقہ مانا جاتا ہے، وہاں فصلوں کی یہ تباہی نہ صرف مقامی کسانوں کے لیے معاشی قتل کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے بھر میں غذائی اجناس کی فراہمی پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کسانوں کی اس دہائی پر کتنی جلدی حرکت میں آتی ہے۔
No comments:
Post a Comment